تقریباً 5 سے 6 سال پہلے میں نے اپنے نام پر ایک فلیٹ خریدا۔ میں ایک سنگل مدر ہوں اور میرا 9 سال کا بیٹا ہے، اس فلیٹ کی کل قیمت اُس وقت تقریباً 64 لاکھ روپے تھی۔ اس میں تقریباً 60٪ رقم میری اپنی جمع پونجی تھی، جبکہ باقی 40٪ یعنی تقریباً 33 لاکھ روپے میرے والد نے اپنا فلیٹ بیچ کر مجھے دیے تھے، رقم دیتے وقت میرے والد نے کہا تھا: “یہ تم رکھ لو، ہم تمہارے ساتھ رہیں گے۔” فلیٹ مکمل طور پر میرے نام پر ہے اور اس وقت کوئی تحریری معاہدہ، شراکت، قرض یا حصہ داری طے نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر میرے والد سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ “میں نے دے دیا تھا۔” ہم ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ میرا بھائی اب یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ چونکہ والد کے 33 لاکھ روپے اس فلیٹ میں لگے تھے، اس لیے اُس حصے میں اُس کا بھی حق بنتا ہے۔ میں اس معاملے کو مکمل طور پر شریعت کے مطابق واضح طور پر سمجھنا چاہتی ہوں، تاکہ اگر کسی کا حق بنتا ہو تو میں ادا کر سکوں اور نہ میرے اوپر کوئی ناانصافی یا گناہ باقی رہے اور نہ میرے والد پر۔ براہِ کرم یہ وضاحت فرمائیں: کیا والد کی دی گئی رقم شرعی طور پر ہبہ (تحفہ) شمار ہوگی یا قرض/حصہ داری؟ کیا فلیٹ میں میرے بھائی یا دوسری بہنوں کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہے؟ اگر والد نے اپنی زندگی میں خوشی سے رقم دے دی ہو اور ملکیت میرے نام ہو تو بعد میں وراثت کا کیا حکم ہوگا؟ چونکہ فلیٹ کی 60٪ رقم میری اپنی تھی تو شرعی طور پر ملکیت کس بنیاد پر تقسیم ہوگی؟ ایسی صورت میں انصاف اور صلہ رحمی کا بہتر طریقہ کیا ہے
واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا مالک و مختار ہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنی ملکیت میں ہر جائز تصرف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اپنی اولاد کو کچھ دے دے تو شرعی طور پر یہ ہبہ (گفٹ) شمار ہوگا اور ہبہ میں موہوب چیز پر قبضہ کر لینے سے ملکیت مکمل ہو جاتی ہے،لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر والد نے اپنی خوشی اور رضامندی سے مذکورہ رقم آپ کو دے کر اس کا مالک بنا دیا تھا تو آپ شرعاً اس رقم کی مالک ہیں ، اس میں دیگر ورثا اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
*الدرالمختار :(5/ 688، ط:دارالفكر)* (وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح) . *الهندية: (4/ 375، ط:دارالفكر)* فكقوله: وهبت هذا الشيء لك، أو ملكته لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة، *مجلة الأحكام العدلية: (22،ط: نور محمد)* فإذا وهب أحد شيئا إلى آخر لا تتم الهبة قبل القبض.