اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا ایک خاتون جن کے خاوند کا انتقال ہو گیا ان کی 3 بیٹیاں جبکہ صرف ایک بیٹا ہے ، اور ترکہ میں صرف ایک مکان جس کی قیمت 2 کروڑ روپے ہیں اب اس میں 3 بیٹیوں اور 1 بیٹے اور خوداس خاتون کا کیا حصہ بنے گا ؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز اور تکفین کے بعد اور اگر کوئی وصیت کی ہے ہیں تو تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے آٹھواں حصہ بیوہ (میت کی بیوی) کو ملے گا اور باقی بچوں میں تقسیم کیا جائے گا لڑکے کو دو اور ہر لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے گا اس تقسیم کی رو سے پچیس لاکھ (25,00000)روپے میت کی بیوی کو ملے گے اور ہر لڑکی کو پینتیس لاکھ (35,00000)روپے اور لڑکے کو ستر لاکھ (70,00000)روپے دیے جائیں گے ۔
*القران الکریم:(4/ 11)* لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ *الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)* وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين. *السراجي في الميراث:(ص:18،ط:البشرى)* اما للزوجات فحالتان: الربع للواحده فصاعدا عند عدم الولد وولد الابن وان سفل ،والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل.