کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان جھگٖڑا ہوگیا ، میاں نے بیوی سے کہا کہ تمہارا یہ حمل مجھ سے نہیں ہے ، اور بیوی نے بھی اکیلے میں ایک شخص کے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اس کا اقرار کیا کہ یہ بچے دیور کے نطفے سے ہے ، تو اب اس بچے کا کیا حکم ہے ؟ یہ کس کے نسب سے ہوگا ؟
نکاح کے بعد جو بھی بچہ پیدا ہو چاہے چھ ماہ بعد ہی کیوں نہ ہو،اس کا نسب شوہرکی طرف منسوب ہوگا ، تاہم اگر شوہر اس بچے کا انکار قاضی کے عدالت میں کرے تو اس صورت میں قاضی میاں بیوی کے درمیان تفریق کردے گا اور بچے کا نسب والدہ کی طرف منسوب ہوگا ۔
صحيح مسلم: (4/ 171، رقم الحديث : 36 - (1457)، ط: دار طوق النجاة )
عن عائشة ، أنها قالت: اختصم سعد بن أبي وقاص وعبد بن زمعة في غلام، فقال سعد: هذا يا رسول الله ابن أخي عتبة بن أبي وقاص، عهد إلي أنه ابنه، انظر إلى شبهه، وقال عبد بن زمعة: هذا أخي يا رسول الله، ولد على فراش أبي من وليدته، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شبهه فرأى شبها بينا بعتبة، فقال: هو لك يا عبد، الولد للفراش، وللعاهر الحجر .
سنن الترمذي: (2/ 492، رقم الحديث : 1203، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن ابن عمر قال: لاعن رجل امرأته، وفرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما، وألحق الولد بالأم .