عقیقہ

قربانی کے جانور میں ایک حصہ عقیقہ کے لیے مخصوص کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1141
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / عقیقہ

قربانی کے جانور میں ایک حصہ عقیقہ کے لیے مخصوص کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گائے خریدی گئی ہے قربانی کے لیے تواس کے حصوں میں سے ایک حصہ بچے یا بچی کا عقیقہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ یاعقیقہ کے لیے الگ سے جانور خریدنا لازمی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قربانی کے لیے خریدے گئے جانور میں ایک حصہ عقیقہ کے لیے مخصوص کرنا جائز ہے ۔

حوالہ جات

الهندية: (5/ 304، ط: دارالفكر)
سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى، وكذلك ‌إن ‌أراد ‌بعضهم ‌العقيقة عن ولد ولد له من قبل، كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى.

المبسوط للسرخسي : (12/ 12، ط: دار المعرفة )
ويستوي إن كان ‌قصدهم ‌جميعا ‌التضحية، أو قصد بعضهم قربة أخرى عندنا.

بدائع الصنائع : (5/ 72، ط: دارالكتب العلمية)
وكذلك ‌إن ‌أراد ‌بعضهم ‌العقيقة عن ولد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب إلى الله تعالى - عز شأنه - بالشكر على ما أنعم عليه من الولد، كذا ذكر محمد رحمه الله في نوادر الضحايا .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
47
فتوی نمبر 1141کی تصدیق کریں