عقیقہ

عقیقہ کا سنت طریقہ اور مدرسے میں عقیقہ کا بکرا دینا

فتوی نمبر :
2091
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / عقیقہ

عقیقہ کا سنت طریقہ اور مدرسے میں عقیقہ کا بکرا دینا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عقیقہ کا سنت طریقہ کیا ہے اور عقیقہ کس طریقہ سے ادا ہوگا؟ اگر کسی مدرسے میں بکرا دیا جاۓ تو اس سے عقیقہ ادا ہوجاۓ گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عقیقہ کرنا سنت ہے، اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جائے، اسی دن بچے کے سر کے بال منڈوا کر ان کے وزن کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کی جائے اور بچے کا اچھا اسلامی نام رکھا جائے، اگر کسی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں یا اکیسویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے۔
عقیقہ کے گوشت کو خود بھی کھایا جا سکتا ہے اور مہمانوں کی دعوت بھی کی جا سکتی ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کر دیے جائیں: ایک اپنے لیے، ایک رشتہ داروں کے لیے اور ایک محتاجوں کے لیے۔
عقیقہ کا جانور ذبح کر کے اس کا گوشت مدرسے میں بھیج دینا اور مدرسے کے بچوں کو کھلانا بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي :(182/3،رقم الحديث:1522،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا علي بن حجر، قال: أخبرنا علي بن مسهر ، عن إسماعيل بن مسلم، عن الحسن ، عن سمرة قال: قال رسول الله ﷺ: «الغلام مرتهن بعقيقته،» يذبح عنه يوم السابع، ويسمى، ويحلق رأسه.
حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: أخبرنا سعيد بن أبي عروبة ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب، عن النبي ﷺ نحوه.هذا حديث حسن صحيح.
والعمل على هذا عند أهل العلم، يستحبون أن يذبح عن الغلام العقيقة يوم السابع، فإن لم يتهيأ يوم السابع فيوم الرابع عشر، فإن لم يتهيأ عق عنه يوم حاد وعشرين، وقالوا: لا يجزئ في العقيقة من الشاة إلا ما يجزئ في الأضحية.

*شرح مختصر الطحاوي للجصاص:(292/7،ط:دار السراج)*
قال: (والعقيقة تطوع، من شاء فعلها، ومن شاء تركها).قال أحمد: روي عن النبي ﷺ أنه قال: «كل غلاء رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم السابع، ويحلق رأسه، ويدمى».رواه الحسن عن سمرة عن النبي ﷺ.
وليس في هذا الحديث دلالة على وجوبها؛ لأن قوله: «كل غلام رهينة بعقيقته»: لا يجوز أن يكون مراده وجوبها؛ لأنه لا يخلو حينئذ من أن تكون واجبة على الغلام أو على غيره.
ولا يجوز أن يكون ذلك على الغلام، ويكون مرتهنًا بها؛ لأن الطفل ليس من أهل التكليف، وإن كانت العقيقة عنه على غيره، وهو والده، فلا يجوز أن يكون الصبى مرتهنًا بها على غيره، فكيف تصرفت الحال فلا دلالة في هذا اللفظ على وجوبها.

*الهندية:(300/1،ط: دارالفكر)*
ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
26
فتوی نمبر 2091کی تصدیق کریں