عقیقہ

عقیقہ کے جانور میں نفلی صدقہ کی نیت کرنا

فتوی نمبر :
971
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / عقیقہ

عقیقہ کے جانور میں نفلی صدقہ کی نیت کرنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
میں نے نیت کی کہ ہر مہینے تنخواہ آنے پر ایک بکرا صدقہ کیا کروں گا اور میرے دو بچے ہیں، ایک لڑکا ایک لڑکی، جن کا مجھے عقیقہ کرنا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ : کیا میں ایک بڑا جانور بیل یا گائے خرید کر اس ایک جانور میں صدقہ اور عقیقہ دونوں کرسکتا ہوں ۔ جزاک اللّہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بڑےجانور میں عقیقہ کی نیت سے دوحصے لڑکے اورایک حصہ لڑکی کامتعین کر کے بقیہ حصوں میں نفلی صدقہ کی نیت کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

*الشامیة:(326/6،ط:دارالفکر)*
وشمل ما لو كانت القربة واجبة على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران.

*بدائع الصنائع:(71/5،ط:دارالکتب العلمیة)*
ولو أرادوا القربة؛ الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
79
فتوی نمبر 971کی تصدیق کریں