جناب مفتی صاحب !
ایک سوال پیش خدمت ہے ، براہ کرم !جواب دے کر مشکور فرمائیں مضاربت کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نیز ایک عام مسلمان کس طرح اس کو جان سکتا ہے ؟
واضح رہے کہ مضاربت شریعت میں اس عقد کو کہتے ہیں جس میں دو شخص اس طور پر عقد کرتے ہیں کہ ایک کا مال اور دوسرے کا عمل ہوتا ہے اور دونوں کے درمیان منافع فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوتے ہیں ، اگر خدانخواستہ نقصان ہو تو پہلے اس کو منافع میں سے پورا کیا جائے گا، اور اگر نقصان کی تلافی نفع سے نہ ہو پائے تو اس کا ازالہ سرمائے سے کیا جائے گا، اس صورت میں کاروبار کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا، اوراس کا نقصان یہی ہوگا کہ اس کی محنت رائیگاں جائے گی۔
الدرالمختار :(5/ 645، ط: دارالفكر)
وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب.
بدائع الصنائع : (6/ 86، ط: دار الكتب العلمية )
لأن المضاربة نوع من الشركة، وهي الشركة في الربح، وهذا شرط يوجب قطع الشركة في الربح؛ لجواز أن لا يربح المضارب إلا هذا القدر المذكور، فيكون ذلك لأحدهما دون الآخر .
الهندية: (4/ 285، ط: دارالفكر)
أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر .