السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ کرام کہ عدت کے دوران بیوہ عورت کا کس کس سے پردہ ہوگا اور کس سے نہیں؟
واضح رہے کہ عورت کے لیے نامحرم مرد سے پردہ کرنا صرف عدت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ نامحرم سے پرہ ہر حال میں ضروری ہے، چاہے عورت عدت کی حالت میں ہو یا عام حالت میں۔
*القرآن الكريم:(الاحزاب55:33)*
لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّۚ-وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا(55)
*الشامية:(406:1،ط:دارالفكر)*
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي