السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
مسئلہ یہ ہے کہ عورت حالت حیض میں تبلیغ میں جا سکتی ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
عورت کا حیض کی حالت میں تبلیغ کے لیے جانا درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، البتہ عورت حیض کے دوران مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی، نماز اور روزہ نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی قرآنِ کریم کی تلاوت کرسکتی ہے، البتہ دینی کتابیں پڑھ سکتی ہے، ذکر، دعا، درود شریف، استغفار اور تبلیغی مشورہ یا نصیحت کرسکتی ہے۔
*سنن ابی داود:(166/2،رقم الحدیث:232،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدَّثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا أفلت بن خليفة، حدثتني جسرة بنت دجاجة، قالت:سمعت عائشة تقول جاء رسول الله ﷺ ووجوه بيوت أصحابِه شارِعة في المسجد، فقال: «وجهوا هذه البيوت عن المسجد» ثم دخل النبي ﷺ ولم يصنع القوم شيئا رجاء أن تنزل فيهم رخصة.
*الدرالمختار:(44/1 ،ط: دارالفکر)*
و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه.
*بدائع الصنائع:(44/1،ط: دار الکتب العلمیة)*
وأما) حكم الحيض والنفاس فمنع جواز الصلاة، والصوم، وقراءة القرآن، ومس المصحف إلا بغلاف، ودخول المسجد.