خواتین کے مخصوص مسائل

دورانِ حمل آنے والے خون کا حکم

فتوی نمبر :
444
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / خواتین کے مخصوص مسائل

دورانِ حمل آنے والے خون کا حکم

اگر حمل کے دوران عورت کو خون آتا رہے تو نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ نماز چھوڑ دے اور بعد میں قضا کرے یا اسی وقت نماز پڑھتی رہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حمل کے دوران ولادت سے پہلے آنے والا خون حیض یا نفاس کا خون نہیں ہوتا، بلکہ استحاضہ ہوتا ہے، ایسی عورت کو نماز اور روزہ معاف نہیں ہے۔
اگر خون مسلسل آتا ہو تو یہ عورت معذور کے حکم میں ہے، ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے گی اور اس وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نماز اور تلاوت وغیرہ کرسکتی ہے، بشرطیکہ اس عذر کے علاوہ کوئی اور ناقض وضو پیش نہ آیا ہو، وقت ختم ہونے کے بعد دوبارہ وضو کرے گی۔

حوالہ جات

الشامية:(285/1،ط: دارالفكر)*
(وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)

*ملتقى الابحر:(82/1،ط: دارالكتب العلمية)*
وما تراه الحامل حال الحمل وعند الوضع قبل خروج أكثر الولد استحاضة وإن زاد على أكثره ولها عادة فالزائد عليها استحاضة وإلا فالزائد على الأكثر فقط استحاضة.

*البناية شرح الهداية:(688/1،ط: دارالكتب العلمية)*
وما تراه الحامل حال ولادتها قبل خروج أكثر الولد استحاضة، وروى هشام عن محمد: بعد خروج الرأس ونصف البدن أو الرجلين وأكثر من نصف البدن، ولأجل هذه الاختلافات أبهم المصنف البعض.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
88
فتوی نمبر 444کی تصدیق کریں