خواتین کے مخصوص مسائل

دیت دینے کے بعد قتل کے گناہ کا حکم

فتوی نمبر :
2182
عقوبات / حدود و سزا / خواتین کے مخصوص مسائل

دیت دینے کے بعد قتل کے گناہ کا حکم

مفتی صاحب!
قاتل کی دیت روپیہ میں کتنی ہے؟ نیز قاتل دیت ادا کرنے سے قیامت والے دن بری سمجھا جائے گا؟
جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قتل کے معاملے میں معافی یا صلح کی وجہ سے صرف قصاص ساقط ہوتا ہے، کیونکہ قصاص مقتول کے اولیاء کا حق ہے، جب وہ اپنے اس حق کو معاف کر دیں یا صلح پر راضی ہو جائیں تو یہ سزا ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ اصل جرم ختم نہیں ہوتا، کیونکہ قتل کا ارتکاب قاتل کرچکا ہوتا ہے، اسی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ رہے گا، جب تک وہ صدق دل سے توبہ نہ کرے اس کا آخرت میں مؤاخذہ ہو سکتا ہے۔
دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار ہے، جو 375 تولہ سونا بنتا ہے، یعنی تقریباً 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی موجودہ قیمت۔
اور اگر دیت چاندی کے اعتبار سے ادا کی جائے تو اس کی مقدار دس ہزار (10000) درہم ہے، جو 2625 تولہ چاندی کے برابر ہے، یعنی تقریباً 30.618 کلوگرام چاندی یا اس کی قیمت۔
چونکہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں روزانہ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اس لیے دیت کی حتمی رقم پہلے سے مقرر نہیں کی جا سکتی، جس دن دیت ادا کرنا مقصود ہو، اسی دن صرافہ مارکیٹ سے فی تولہ سونے یا چاندی کی قیمت معلوم کر کے مجموعی رقم کا حساب کر لیا جائے۔

حوالہ جات

*الشامية:(549/6،ط: دارالفكر)*
وفي الحامدية عن فتاوى الإمام النووي مسألة فيمن قتل مظلوما فاقتص وارثه أو عفا عن الدية أو مجانا هل للقاتل بعد ذلك مطالبة في الآخرة الجواب: ظواهر الشرع تقتضي سقوط المطالبة في الآخرة اهـ، وكذا قال في تبيين المحارم: ظاهر بعض الأحاديث يدل على أنه لا يطالب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2182کی تصدیق کریں