کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیت سجدہ تلاوت کرنے کے فورا بعد رکوع میں جائے، رکوع کے بعد نماز والا سجدہ کرے تو کیا نماز والے سجدے میں سجدہ تلاوت اداہوجائے گا یا نہیں؟
اگر نمازی نے آیتِ سجدہ پڑھنے کے بعد تین آیات تلاوت کرنے سے پہلے رکوع کرلیا اور رکوع میں بھی سجدہ تلاوت کی نیت نہ کی تو اس رکعت کے سجدہ ہی میں سجدہ تلاوت ادا ہوجاتا ہے، اس کے بعد قضا کرنے کی ضرورت نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں آیت سجدہ پڑھنے کے فورا بعد رکوع کیا، لیکن رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت نہیں کہ تو نماز کے سجدے سے ہی سجدۂ تلاوت ادا ہوگیا ہے، خواہ سجدۂ تلاوت کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔
*الفتاوى الهندية:(134/1،ط: دارالفکر)*
أجمعوا على أن سجدة التلاوة تتأدى بسجدة الصلاة وإن لم ينو للتلاوة، كذا في الخلاصة.
*البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(133/2،ط: دارالکتاب الاسلامي)*
وفی الخلاصة أجمعوا أن سجدة التلاوة تتأدى بسجدة الصلاة، وإن لم ينو التلاوة واختلفوا في الركوع.
*حاشية ابن عابدين:(112/2،ط دارالفکر)*
(قوله لو ركع و سجد لها) أي للصلاة فورا ناب أي سجود المقتدي عن سجود التلاوة بلا نية تبعا لسجود إمامه لما مر آنفا أنها تؤدى بسجود الصلاة فورا و إن لم ينو.