کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام:ہم ہر ہفتے نو یا دس دوست مل کر ہزار، ہزار روپے جمع کرتے ہیں، پھر اس رقم سے کھانا تیار کیا جاتا ہے اور سب مل کر کھاتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی کم کھاتا ہے اور کوئی زیادہ، جبکہ پیسے سب نے برابر جمع کیے ہوتے ہیں۔
تو کیا اس طرح کا کھانا کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اگر لوگ آپس میں پیسے جمع کر کے اجتماعی طور پر کھانا کھائیں اور اس میں کوئی کم کھائے یا کوئی زیادہ تو یہ بات قابلِ اعتراض نہیں، کیونکہ ایسی دعوت میں سب کی رضامندی شامل ہوتی ہے اور معمول کے طور پر تسامح سے کام لیا جاتا ہے، لہٰذا ایسی اجتماعی دعوت میں شرکت کرنا جائز ہے۔
*صحيح البخاري:(139/3،ط: دار طوق النجاة)*
لم ير المسلمون في النهد بأسا أن يأكل هذا بعضا وهذا بعضا.
*عمدة القاري:(40/13،ط:دار إحياء التراث العربي)*
باب الشركة في الطعام والنهد… لم ير المسلمون في النهد بأسا أن يأكل هذا بعضا وهذا بعضا …النهد إخراج الرفقاء النفقة في السفر وخلطها، ويسمى بالمخارجة، وذلك جائز في جنس واحد وفي الأجناس، وإن تفاوتوا في الأكل، وليس هذا من الربا في شيء، وإنما هو من باب الإباحة.
*فيض الباري:(3/4،ط:دار الكتب العلمية)*
لما لم ير المسلمون فى النهد بأسا أن يأكل هذا بعضا وهذا بعضا، وكذلك مجازفة الذهب والفضة، والقران فى التمر.