روزے کی قضاء و کفارہ

بیماری کی غلط تشخیص کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا

فتوی نمبر :
1270
عبادات / روزہ و رمضان / روزے کی قضاء و کفارہ

بیماری کی غلط تشخیص کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا

السلام علیکم و رحمة اللّٰه و بركاته!
میری اہلیہ کو تقریباً 28 سال پہلے لبلبہ میں مسئلہ ہوا تھا جس کی وجہ سے لبلبہ انسولین نہیں بنا رہا تھا، لہذا ڈاکٹروں نے شوگر کی بیماری تشخیص کی تھی، ڈاکٹرز کی یہی رائے تھی کہ مریضہ روزے نہیں رکھے گی، ہم نے اہل علم حضرات سے اس وقت پوچھا تھا انہوں نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ عذر کی وجہ سے روزے کی چھوٹ ہے فدیہ دیا جائے، لہذا ہم نے ہر سال فدیہ ادا کیا ہے۔
اب 28 سال بعد اصل مسئلے کا پتہ چلا، لبلبے کا آپریشن ہوا اور بحمد اللہ شوگر کا مرض نہیں ہے، دراصل لبلبے میں کوئی اور مسئلہ تھا جو آپریشن سے ٹھیک ہوا، مطلب پہلے ڈاکٹرز نے غلط تشخیص کی تھی اور ان کے کہنے اور مفتیان کرام کے تائید کی وجہ سے مذکورہ خاتون 28 سال تک روزہ نہیں رکھتی تھیں، فدیہ ادا کرتی تھیں، اب ان کے پچھلے روزوں کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی بیمار کو روزہ رکھنے سے بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو شریعت اسے اجازت دیتی ہے کہ وہ صحت یاب ہونے تک روزے نہ رکھے، جب صحت بحال ہو جائے تو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا لازم ہے، البتہ اگر صحت یابی کی امید باقی نہ رہے اور انسان ہمیشہ کے لیے روزہ رکھنے کی طاقت کھو بیٹھے تو ایسی صورت میں قضا کے بجائے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو صدقۃ الفطر کے برابر فدیہ دینا واجب ہے۔

لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ اب صحت مل چکی ہے، اس لیے آپ کی بیوی پر روزوں کی قضا لازم ہے۔
اور قضا میں ہر روز یہ نیت کرے کہ میں اپنے ذمہ فرض روزوں میں سے پہلے روزے کی قضا کر رہی ہوں، ہر روزے میں یہی نیت دہرانا افضل اور درست طریقہ ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(البقرۃ: 184:2)*
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ.

*النهر الفائق:(28/2،ط:دار الكتب العلمية)*
لمن خاف زيادة المرض الفطر وللمسافر، وصومه أحب إن لم يضره،وفي(الخلاصة) الغازي إذا كان يعلم يقينًا أنه يقاتل العدو في رمضان ويخاف الضعف إن لم يفطر أفطر.

*مراقي الفلاح:(258/1،ط:المكتبة العصرية)*
جمع عارض بالمرض والسفر والإكراه والحبل والرضاع والجوع والعطش والهرم بها يباح الفطر فيجوز «لمن خاف» وهو مريض «زيادة المرض» بكم أو كيف لو صام والمرض معنى يوجب تغير الطبيعة إلى الفساد ويحدث أولا في الباطن ثم يظهر أثره وسواء كان لوجع عين أو جراحة أو صداع أو غيره «أو» خاف «بطء البرء» بالصوم جاز له الفطر لأنه قد يفضي إلى الهلاك فيجب الاحتراز عنه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
57
فتوی نمبر 1270کی تصدیق کریں