امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے۔
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: اگر کسی شخص کے پچھلے رمضان کے روزے کسی وجہ سے قضا رہ گئے ہوں، اور وہ انہیں ابھی تک نہیں رکھ سکا، اب نیا رمضان آگیا ہے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا نئے رمضان کے روزے صحیح ہوں گے؟ اور پچھلے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کا کیا طریقہ ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے پچھلے رمضان کے روزے کسی عذر (مثلاً بیماری یا سفر) کی وجہ سے قضا ہوگئے ہوں اور وہ اگلے رمضان تک ان کی قضا نہ کر سکا ہو، تو نئے رمضان کے روزے رکھ سکتا ہے،اگرچہ پچھلے روزے باقی ہو، ان کے ادا نہ کرنے سے نئے روزوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑےگا،البتہ رمضان کے بعد جتنا جلد ممکن ہو، پچھلے رمضان کے رہ جانے والے روزوں کی قضا کرے۔
*الدرالمختار:(149/1 ،ط: دارالفکر)*
(وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) لأنه على التراخي ولذا جاز التطوع قبله بخلاف قضاء الصلاة.
(و) لو جاء رمضان الثاني (قدم الأداء على القضاء).
*الھندیة:(208/1 ،ط: دارالفکر)*
وإن جاء الرمضان الثاني، ولم يقض الأول قدم الأداء على القضاء كذا في النهر الفائق.