اگر امام صاحب رمضان شریف میں ایک جگہ وتر کی جماعت کروا دیں، پھر امام صاحب نے دوسری جگہ پر لوگوں سے کہا کہ میں تو وتر ادھر پڑھ کے آیا ہوں تو پھر امام صاحب نے سوچا کہ اگر میں ایک رکعت اور پڑھ لوں اور پہلے والے وتر کو جفت بنا لوں اور اس کے بعد پھر وتر کی جماعت پڑھا دوں تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں ،دوبارہ پڑھانے کی صورت میں مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کا اس طرح پہلے وتر کو ایک اور رکعت ملاکر جفت بنانا اوردوبارہ وتر پڑھنا جائز نہیں ،لہذا اگر دوبارہ امام صاحب وتر پڑھا چکے توا ن کے پیچھے وتر پڑھنے والوں کی وتر نہیں ہوئی ۔
*«فتح القدير :(1/ 438،ط: دار الفكر)*
أوتر قبل النوم ثم قام من الليل فصلى لا يوتر ثانيا لقوله صلى الله عليه وسلم «لا وتران في ليلة» ولزمه ترك المستحب المفاد بقوله صلى الله عليه وسلم «اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا» لأنه لا يمكن شفع الأول لامتناع التنفل بركعة أو ثلاث.
*حاشية الطحطاوي : (386،ط:دارالکتب العلمية)*
وإذا صلى الوتر قبل النوم ثم تهجد لا يعيد الوتر لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا وتران في ليلة".