مفتی صاحب
گڑیا یا ایسے کھلونے جو بلی وغیرہ کی شکل میں ہوں کیا یہ بچوں کو کھیلنے کےلیے دیے جا سکتے ہیں، جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں ایسی چیز گھر میں نہیں رکھنی چاہیے۔اس کی تھوڑی وضاحت فرمائیں
واضح رہے کہ ایسے کھلونےجوجاندار کے مجسمے ہوں،جیسے گڑیا ،بلی اور بھالو وغیرہ ،ایسے کھلونوں کو خریدنا،بیچنا، گھر میں رکھنا اور بچوں کو دینا سب ناجائز ہے۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر سازی کرنے والے شخص کو ہوگا ،لہذاجاندار کی تصاویر والےکھلونے خرید کر بچوں کو دینا اور گھر میں رکھنا جائز نہیں۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5608،ط:دار طوق النجاۃ)*
عن عمران بن حطان: أن عائشة رضي الله عنها حدثته:أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يترك في بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه.
*صحيح مسلم: (رقم الحدیث:98- 2109،ط:دار طوق النجاۃ)*
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون.