کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سیاسی پارٹی مسجد میں اپنی پارٹی کی مٹینگ رکھتی ہے ، اور اس اجلاس میں سارے ان کی سیا سی کارروائی ہوتی ہے ،
پوچھنا یہ ہے کہ مسجد میں اس طرح سیاسی سرگرمیاں کرنا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کی عبادت ہی کے لیے بنائی گئی ہے ، لہذاپوچھی گئی صورت میں مسجد میں دنیاوی باتیں اور سیاسی سرگرمیاں رکھنے سے مسجد کا تقدس برقرار نہیں رہتا ،لہذا محض سیاسی مقاصد کے لیے مسجد میں سیاسی اجتماعات منعقد کرنا ناجائز ہے ۔
القرأن الكريم :[الجن:/72 18] ﵟ
وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا .
الشامية :(1/ 662، ط: دارالفكر)
(قوله بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا.
الهندية:(5/ 321، ط: دارالفكر)
الجلوس في المسجد للحديث لا يباح بالاتفاق؛ لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا، وفي خزانة الفقه ما يدل على أن الكلام المباح من حديث الدنيا في المسجد حرام. قال: ولا يتكلم بكلام الدنيا.