طلاق

طلاق کے وسوسے آنے کا حکم

فتوی نمبر :
1430
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کے وسوسے آنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے فجر کی نمازمیں بار بار وسوسہ آرہا تھا کہ میں نے طلاق دے دی ہے اورمجھے اب شک ہورہا ہے ،میں نے اسے زبان پر لایا ، کیا اس سے طلا ق ہوجائے گی براہ کرم میری راہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان کے دل میں اختیاری اور غیر اختیاری خیالات آتے رہتے ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ، اور طلا ق کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں محض وسوسے آنے اور شک ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

حوالہ جات

صحيح البخاري: (3/ 145، رقم الحديث : 2528، ط: دار طوق النجاة )
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله تجاوز لي عن أمتي ‌ما ‌وسوست ‌به صدورها، ما لم تعمل أو تكلم.

الشامية :(3/ 230، ط: دارالفكر)
وركنه ‌لفظ ‌مخصوص (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ‌ما ‌جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر .

الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص47، ط: دار الكتب العلمية )
القاعدة الثالثة: اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
66
فتوی نمبر 1430کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --