حرام مال والے کی دعوت میں شرکت

فتوی نمبر :
144
/ /

حرام مال والے کی دعوت میں شرکت

ایک شخص جس کا کل مال مال حرام ہو اس کی طرف سے دی گئی دعوت میں مجبورا ًکچھ کھا لیا تواب کیا کرنا چاہیے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر کسی شخص نے مال حرام طریقے سے کمایا گیا ہو تو اُس کی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ہی اُس کے مال سے کچھ کھانا پینا چاہیے،لیکن اگر کسی وجہ سے ایسے شخص کے ہاں کھاناکھالیاتو اس کی تلافی کی صورت ہے کہ اگر کھانے والا مالدار ہو، تو وہ اتنی رقم صدقہ کر دے ،جتنی مالِ حرام سے کھائی گئی ہو اور اگر کھانے والا خود غریب مستحقِ زکاۃہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور نہ ہی اُس پر تلافی لازم ہے،کیونکہ شریعت کی رو سے حرام مال کا مصرف یہ ہے کہ اُسے بغیر ثواب کی نیت کے کسی غریب مستحقِ زکاۃ کو دے دیا جائےاور جب کھانے والا خود غریب ہے تو وہ اس مال کا مستحق ہے۔

حوالہ جات

دلائل :
الهندية:(5/ 342، ط: دارالفكر)
أهدى ‌إلى ‌رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام .

البزازية :(3/203 ، ط: دارالفكر )
غالب مال الهدي ان كان حلالا لا باس بقبول هديته و اكل ماله ما لم يتعين انه من حرام وان كان غالب ماله الحرام لا يقبلها و لا ياكل .

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
سیف اللہ خالد
متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ ، کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
146
فتوی نمبر 144کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155