کوئلے پر تیمم کرنےکاحکم

فتوی نمبر :
1635
طہارت و نجاست / طہارت /

کوئلے پر تیمم کرنےکاحکم

کوئلےپرتیمم کرنا کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو زمین کی جنس سےہو، اس سے تیمم کرناجائز ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر کوئلے سے مراد وہ پہاڑی کوئلہ ہے جو کان سے نکالا جاتا ہے تو ایسے کوئلے پر زمین کی جنس سے ہونے کی وجہ سے تیمم کرنا جائز ہے اور اگر لکڑی کو جلا کر بنا ہوا کوئلہ مراد ہو تو ایسے کوئلے پر زمین کی جنس سے نہ ہونےکی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*بدائع الصنائع:(1/ 53،ط: دار الكتب العلمية)*
قال أبو حنيفة ومحمد: يجوز التيمم ‌بكل ‌ما ‌هو ‌من ‌جنس ‌الأرض وعن أبي يوسف روايتان: في رواية بالتراب والرمل، وفي رواية لا يجوز إلا بالتراب خاصة وهو قوله الآخر،

*الشامیة:(1/ 240،ط:دارالفكر)*
ولا (بمنطبع) كفضة وزجاج (‌ومترمد) ‌بالاحتراق ‌إلا ‌رماد ‌الحجر فيجوز كحجر مدقوق أو مغسول،
(قوله ومترمد) أي ما يحترق بالنار فتصير رمادا بحر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
40
فتوی نمبر 1635کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --