ادارے میں حاضر ہونے کے باوجود Thumb machine میں حاضری نہ لگانے کی صورت میں تنخواہ کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
1671
معاملات / مالی معاوضات /

ادارے میں حاضر ہونے کے باوجود Thumb machine میں حاضری نہ لگانے کی صورت میں تنخواہ کاٹنے کا حکم

مفتی صاحب!
ایک اور بات یہ پوچھنی تھی کہ اگر ادارے میں Thumb Machine لگائی گئی ہو، جس میں آتے جاتے دونوں وقت Thumb لگانا ضروری ہے، اب اگر کسی دن واپس جاتے وقت Thumb لگانا بھول جائے تو کیا ادارہ یہ کرسکتا ہے کہ اس کی اس دن کی پوری تنخواہ کاٹ دے، جب کے وہ پورا دن وہاں رہا ہو اور کام بھی کیا ہو اور لوگوں نےدیکھا بھی ہو۔
مذکورہ صورت کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت شرعی طور پر اجیر خاص کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں اور اجیر خاص ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ ملازمت کے اوقات کے دوران غیر حاضر رہتا ہے یا تاخیر کرتا ہے تو اس غیر حاضری اور تاخیر کے اوقات کے بقدر تنخواہ کا مستحق نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر ادارے کا کوئی ملازم ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر ہو اور اپنی حاضری کو کسی دوسرے ذریعے سے ثابت کر سکتا ہو، لیکن Thumb mchine میں حاضری لگانا بھول گیا تو اس صورت میں ادارے کے لیے اس کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں، البتہ غیر حاضری اور تاخیر کی صورت میں اوقات کے بقدر تنخواہ کانٹا جائز ہے ۔

حوالہ جات

*الشامية: (6/ 70،ط:دارالفکر)*
وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
(قوله ‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.

*شرح المجلة:(1/ 98،ط:دارالجليل)*
[ ‌‌(المادة 97) لا يجوز لأحد ‌أن ‌يأخذ ‌مال أحد بلا سبب شرعي]
(المادة 97) :
لا يجوز لأحد ‌أن ‌يأخذ ‌مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
26
فتوی نمبر 1671کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --