عورتوں کا سوشل میڈیا پر اپنی نعت اپلوڈ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1796
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ /

عورتوں کا سوشل میڈیا پر اپنی نعت اپلوڈ کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ ہے کہ کوئی عورت نعت پڑھ کر اس کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتی ہے تصویر کے بغیر( آڈیو )تو کیا اس کے لیے جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کا سوشل میڈیا پر اپنی نعتیں اپ لوڈ کرنا چاہے آڈیو کی صورت میں ہو یا ویڈیو کی صورت میں شرعاً جائز نہیں، اس میں متعدد مفاسد اور شرعی قباحتیں ہیں، جن میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:
(1) بلا ضرورت مردوں تک عورت کی آواز کا پہنچنا، جو شرعاً پسندیدہ نہیں۔
(2) نعت خوانی میں عام طور پر آواز کو نرم، خوش نما اور پرکشش بنایا جاتا ہے، حالانکہ شریعت نے عورتوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ ضرورت کے مواقع پر بھی مردوں سے گفتگو کرتے وقت لہجے میں نرمی اور دل کشی پیدا نہ کریں۔
لہٰذاعورت کا اپنی نعتیں سوشل میڈیا پر شیئر( اپلوڈ)کرنا جائز نہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔

حوالہ جات

القرآن الکريم: (الأحزاب 33: 32)*
يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا.

*الدر المختار مع رد المحتار:(406/1،ط: دار الفکر)*
وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح.
(قوله وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها ولهذا منعها من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد ثم نقل عن خط العلامةالمقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
70
فتوی نمبر 1796کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --