نماز کا کفارہ

کل مال کی وصیت اور قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہونے کی صورت میں فدیہ کا حکم

فتوی نمبر :
1799
عقوبات / کفارات / نماز کا کفارہ

کل مال کی وصیت اور قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہونے کی صورت میں فدیہ کا حکم

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک آدمی ہے اس نے یہ وصیت کی کہ میرے مکان کو میرے مرنے کے بعد بیچ کر قریب کی مدنی مسجد کے اندر خرچ کیا جائے یعنی کل مالیت اس آدمی کی یہی تھی اس کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہیں تھی اور اور وہ اولاد کو کچھ بھی نہیں دینا چاہ رہے تھے اس وجہ سے کہ اولاد نے میری زندگی میں میرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا تو ایک دن اس نے سب بچوں کو بلا کر سب کے سامنے بڑے بیٹے سے کہا کہ یہ تحریر لکھو کہ میرے مرنے کے بعد مکان کی ساری مالیت مدنی مسجد پر خرچ کی جائے گی، کچھ پیسے میری نمازوں کا فدیہ وغیرہ میں دینے ہیں، اس کے بعد جو بچ جائے وہ سب مدنی مسجد پر خرچ کیا جائے، اولاد ان کے سامنے کچھ کہہ نہیں سکے، اولاد نے چاہتے نہ چاہتے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے مگر دلی طور پر راضی نہ تھے اور اس تحریر پر دستخط بھی کر دیے اور بات اسی پر ختم ہو گئی، اب چند دن ہوئے ہیں والد صاحب کا انتقال ہوا ہے اور اولاد کی خواہش یہ ہے کہ اس میں سے سارا مال مدنی مسجد کو نہ جائے، بلکہ کچھ مال ہمیں بھی ملے، اس کے لیے بڑے بیٹے نے سب بھائیوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر آدھا مال مسجد میں لگا دیا جائے، ہم سب بہن بھائی اس پہ راضی ہیں اور آدھا مال ہم ورثا میں تقسیم ہو جائے، کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہے ؟
نیز یہ بھی بتائیں کہ والد صاحب نے صرف یہ کہا ہے کہ میری نمازوں کا فدیہ دیا جائے نمازوں کی کوئی تعداد بیان نہیں کی تو اس کے لیے کتنا مال دینا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔اگر کسی مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو اور ترکہ اس کی ادائیگی کے لیے کافی ہو تو ورثہ پر مال کے ایک تہائی سے فدیہ ادا کرنا شرعاً لازم ہے، البتہ اگر اہلِ خانہ اپنی طرف سے تبرعاً پورا فدیہ ادا کر دیں تو یہ مرحوم کے لیے باعثِ رحمت اور ان کی نیکی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔

اگر مرحوم کے ذمہ قضا نمازوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو تو ایک محتاط اندازہ لگانا چاہیے اور بہتر ہے کہ احتیاطاً کچھ زیادہ شمار کیا جائے، اس اندازے کے مطابق کل قضا نمازوں کا حساب کر کے فدیہ کی رقم نکالی جائے اور کسی مستحق مسلمان فقیر (جو سید یا ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو) کو ادا کی جائے۔
ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے، چونکہ روزانہ پانچ فرض نمازیں اور وتر ملا کر چھ نمازیں بنتی ہیں، اس لیے ایک دن کی نمازوں کا فدیہ چھ صدقہ فطر کے برابر ہوگا۔ فدیہ کی رقم گندم یا اس کے آٹے کی موجودہ قیمت کے مطابق دی جائے گی اور اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کے مصارف ہیں۔
۲۔اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں وصیت کی ہو کہ اس کے انتقال کے بعد اس کا مکان مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کر دیا جائے تو شریعت کی رو سے یہ وصیت صرف ترکے کے ایک تہائی حصے میں نافذ ہوتی ہے۔
اگر ترکے میں صرف ایک ہی مکان ہے تو اسے پورا وقف کرنا تب جائز ہے، جب تمام شرعی ورثا دل سے راضی ہوں، ورثا کی رضامندی کے بغیر پوری جائیداد وقف نہیں کی جا سکتی، اگر ورثا راضی نہ ہوں تو وصیت صرف ایک تہائی تک نافذ ہوگی اور باقی دو تہائی حصہ ورثا میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(72/2،ط: دارالفكر)*
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

*الشامية:(72/2،ط: دارالفكر)*
(قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.
(قوله نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته، وهي أفضل عندنا لإسراعها بسد حاجة الفقير إمداد.

*حاشية الطحطاوي:(447/1،ط:دار الكتب العلمية)*
خاتمة من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء ومن قضى صلاة عمره مع أنه لم يفته شيء منها احتياطا قيل يكره وقيل لا لأن كثيرا من السلف قد فعل ذلك لكن لا يقضي في وقت تكره فيه النافلة.

*البحر الرائق:(208/5،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وفي التبيين لو علق الوقف بموته ثم مات صح ولزم إذا خرج من الثلث لأن الوصية بالمعدوم جائزة كالوصية بالمنافع ويكون ملك الواقف باقيا فيه حكما يتصدق منه دائما وإن لم يخرج من الثلث يجوز بقدر الثلث ويبقى الباقي إلى أن يظهر له مال أو تجيز الورثة فإن لم يظهر له مال ولم تجز الورثة تقسم الغلة بينهما أثلاثا ثلثه للوقف وثلثاه للورثة. اهـ.

*الهندية:(351/2،ط: دارالفكر)*
ولو علق الوقف بموته بأن قال اذا مت فقد وقفت داري على كذا ثم مات صح ولزم اذا خرج من الثلث لأن الوصية بالمعدوم جائزة كالوصية بالمنافع ويكون ملك الميت باقيًا فيه حكمًا فيتصدق عنه دائمًا وإن لم يخرج من الثلث يجوز بقدر الثلث ويبقى الباقي إلى أن يظهر له مال آخر أو تجيز الورثة فإن لم يظهر له مال ولم تجز الورثة تقسم الغلة بينهما أثلاثًا ثلثه للوقف والثلثان للورث.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
46
فتوی نمبر 1799کی تصدیق کریں