کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک بندے نے قسم کھائی کہ میں آئندہ ان پیسوں کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، اب اگر اس نے ایسے ہی ہاتھ لگا دیا تو کیا وہ حانث ہو جائے گا یا نہیں ؟اور اگر حانث ہو گیا تو قسم کے کفارہ کے روزے مسلسل رکھنے ہوں گے یا وقفے سے بھی رکھ سکتے ہیں؟
پوچھی گئی صورت میں اگر اس آدمی نے پیسوں کو ہاتھ لگایا تو وہ حانث ہو جائے گا نیز قسم کے کفارے کے روزے مسلسل رکھنے لازم ہیں ۔
الهندية: (2/ 52، ط: دارالفكر)
ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي.
الأصل لمحمد بن الحسن: (2/ 218، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)
قلت أرأيت من كان عليه صيام ثلاثة أيام من كفارة يمين أيتابع بينهن قال نعم بلغنا أنه في قراءة ابن مسعود فصيام ثلاثة أيام متتابعات .