رہن رکھوائے ہوئے زیورات کے فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1834
معاملات / مالی معاوضات /

رہن رکھوائے ہوئے زیورات کے فروخت کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ رقم ادھار لی اور اس کے بدلے میں اس نے کچھ زیورات گروی رکھوائے تھے اور یہ معاملہ ہم نے آپس میں کیا تھا کسی دوسرے کو اس کی خبر نہیں تھی پھر وہ مہلت مانگتے رہے اور میں نے کچھ نہیں کہا اب تقریبا ایک ماہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا اب مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے
تو میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میں ان زیورات کو اپنے استعمال میں لاؤں کیا میرے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں آپ کے دوست کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنا سونا بطور رہن آپ کے پاس رکھوایا تھا رہن کے بارے میں اصول یہ ہے کہ آپ اس سے اپنی ضرورت یوں پوری نہیں کر سکتے، بلکہ آپ اس رہن رکھوائی ہوئی چیز کو بیچ دے اور اس کی قیمت سے اپنا قرض وصول کر لیں اور اس میں سے جو رقم بچ جائے وہ آپ میت کے ورثاکو واپس کر دیں، لیکن اس رہن رکھوائی ہوئی چیز کو آپ دوست کے ورثا کے علم میں لائے بغیر فروخت نہیں کر سکتے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار :(6/ 519، ط: دارالفكر)
(مات الراهن ‌باع ‌وصيه ‌رهنه بإذن مرتهنه وقضى دينه) لقيامه مقامه (فإن لم يكن له وصي نصب القاضي له وصيا وأمره ببيعه) لأن نظره عام وهذا لو ورثته صغارا، فلو كبارا خلفوا الميت في المال فكان عليهم تخليصه جوهرة.

الشامية : (6/ 762، ط : دارالفكر)
قيد بالتركة ‌لأن ‌الإرث ‌يجري في الأعيان المالية، أما الحقوق فمنها ما يورث كحق حبس المبيع وحبس الرهن.

تبيين الحقائق: (6/ 93، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قال رحمه الله (وإن مات الراهن ‌باع ‌وصيه ‌الرهن وقضى الدين)؛ لأن الوصي قائم مقام الموصي، ولو كان الموصي حيا كان له أن يبيع الرهن، فكذا الوصية قال رحمه الله (فإن لم يكن له وصي نصب له القاضي وصيا وأمر ببيعه).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
41
فتوی نمبر 1834کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --