روزہ کے مفسدات و مکروهات

رحم کے صفائی کروانے سے روزے کا حکم

فتوی نمبر :
1850
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

رحم کے صفائی کروانے سے روزے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت رحم کی صفائی روزے کے دوران کرواتی ہے اور اس صفائی کے لیے اس کے جسم میں آلات اتارے جاتے ہیں ۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح رحم کی صفائی کروانے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں صفائی کے دوران اگر آلات عورت کے فرج داخل میں پہنچ جائے تواس سے روزہ فاسد ہوگا جس کی صرف قضا لازم ہوگی ، کفارہ نہیں ۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني: (2/ 385، ط: دار الكتب العلمية)
إذا رمت المرأة ‌القطنة ‌في ‌قبلها إن انتهت إلى الفرج الداخل، وهو رحمها انتقض صومها؛ لأنه تم الدخول.

تبيين الحقائق : (1/ 330، ط: دارالكتاب الاسلامي )
وإن وضعت ‌حشوا ‌في ‌الفرج الداخل فسد صومها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1850کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --