روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں بوس و کنار سے مذی نکلنے کا حکم

فتوی نمبر :
978
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں بوس و کنار سے مذی نکلنے کا حکم

روزےکی حالت میں بوس وکنار سےمذی نکلنےپر روزے کا حکم شرعا کیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کا ایک ساتھ بستر پر لیٹنا جائز ہے، لیکن بلا کپڑا یا بغیر کسی رکاوٹ کے جسم سے جسم ملانا، اپنے اوپر قابو نہ ہونے کی حالت میں بوس و کنار کرنا، ہونٹوں پر بوسہ لینا یا ایک دوسرے کے پوشیدہ اعضاء کو چھونا مکروہ ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر بوس و کنار کی وجہ سےصرف مذی (پتلا لیس دار پانی جیسا مادہ) خارج ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ روزےکی حالت میں یہ عمل ناپسندیدہ ہے اور اس سےپرہیز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

*الدرالمختار مع رد المحتار:(2/ 404،ط:دارالفكر)*
أو قبل) ولو قبلة فاحشة بأن يدغدغ أو يمص شفتيها (‌أو ‌لمس) ‌ولو ‌بحائل لا يمنع الحرارة أو استنما بكفه أو بمباشرة فاحشة ولو بين المرأتين (فأنزل) قيد للكل حتى لو لم ينزل لم يفطر كما مر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
64
فتوی نمبر 978کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --