روزےکی حالت میں بوس وکنار سےمذی نکلنےپر روزے کا حکم شرعا کیاہے؟
واضح رہےکہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کا ایک ساتھ بستر پر لیٹنا جائز ہے، لیکن بلا کپڑا یا بغیر کسی رکاوٹ کے جسم سے جسم ملانا، اپنے اوپر قابو نہ ہونے کی حالت میں بوس و کنار کرنا، ہونٹوں پر بوسہ لینا یا ایک دوسرے کے پوشیدہ اعضاء کو چھونا مکروہ ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر بوس و کنار کی وجہ سےصرف مذی (پتلا لیس دار پانی جیسا مادہ) خارج ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ روزےکی حالت میں یہ عمل ناپسندیدہ ہے اور اس سےپرہیز کرنا چاہیے۔
*الدرالمختار مع رد المحتار:(2/ 404،ط:دارالفكر)*
أو قبل) ولو قبلة فاحشة بأن يدغدغ أو يمص شفتيها (أو لمس) ولو بحائل لا يمنع الحرارة أو استنما بكفه أو بمباشرة فاحشة ولو بين المرأتين (فأنزل) قيد للكل حتى لو لم ينزل لم يفطر كما مر.