کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت رحم کی صفائی روزے کے دوران کرواتی ہے اور اس صفائی کے لیے اس کے جسم میں آلات اتارے جاتے ہیں ۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح رحم کی صفائی کروانے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں ؟
پوچھی گئی صورت میں صفائی کے دوران اگر آلات عورت کے فرج داخل میں پہنچ جائے تواس سے روزہ فاسد ہوگا جس کی صرف قضا لازم ہوگی ، کفارہ نہیں ۔
المحيط البرهاني: (2/ 385، ط: دار الكتب العلمية)
إذا رمت المرأة القطنة في قبلها إن انتهت إلى الفرج الداخل، وهو رحمها انتقض صومها؛ لأنه تم الدخول.
تبيين الحقائق : (1/ 330، ط: دارالكتاب الاسلامي )
وإن وضعت حشوا في الفرج الداخل فسد صومها.