مباحات

مسجد میں ڈیجٹیل گھڑی کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
1871
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مسجد میں ڈیجٹیل گھڑی کے استعمال کا حکم

مفتی صاحب !
ایک ڈیجیٹل گھڑی جس میں پانچوں وقت کی اذان کا ٹائم اورہر نماز کا وقت آنے پر گھنٹی بجتی ہے ، اور مکروہ ٹائم پر لال بتی جلتی ہے ، جماعت سے پہلے بھی گھنٹی بجتی ہے ، کیا یہ درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر گھنٹی کے ٹائم کو طے(Fix)کیا ہے اور مقررہ وقت پر اس کی گھنٹی بجتی ہے ، اور وہ گھنٹی میوزک (موسیقی ) بھی نہیں تواس گھڑی کا استعما ل درست ہے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[النساء:/4 103]
إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا .

الهندية: (1/ 53، ط: دارالفكر)
وأهلية الأذان تعتمد بمعرفة القبلة ‌والعلم ‌بمواقيت ‌الصلاة. كذا في فتاوى قاضي خان .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1871کی تصدیق کریں