مباحات

افیون اور بھنگ کی کاشت کا حکم

فتوی نمبر :
2165
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

افیون اور بھنگ کی کاشت کا حکم


بھنگ اور افیون کی کاشت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بھنگ اور افیون جائز کاموں میں استعمال ہو مثلاً(دوائی)وغیرہ میں تو اس کی کاشت جائز ہےاور اگر نشہ یا نشہ آور چیزوں میں استعمال ہو تو مکروہ ہے،لیکن اگر حکومت کی طرف سے اس پر پابندی ہو اس صورت میں اس کی کاشت نہیں کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

کما فی رد المختار:
ویحرم اکل بنج و حشیشۃ و افیون،لکن دون حرمۃ الخمر ولو سکر باکلھا،لا یحد،بل یعذر۔
ابن عابدین،محمد امین:ج4،ص42،م سعید
کما فی الفتاوی عالمگیریہ:
ومن اشتری جاریۃ بیعاً فاسداً و تقابضاً و باعھا وربح فیھا،یتصدق بالربح،وابن اشتری البائع بالثمن شیئاً وربح فیہ طاب لہ الربح:
الشیخ نظام وجماعتہ:ج3،ص211،م رشیدیہ
فتاوی محمودیہ میں ہے:
افیون کی تجارت مکروہ ہے،افیون کی آمدنی سے جو زمین خرید کر اس میں کاشت کی جاتی ہے اس کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔
محمود حسن گنگوہی: ج16،ص123،م فاروقیہ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2165کی تصدیق کریں