محترم ! امام تکبیر تحریمہ بلند آواز سے کہنا بھول گیا، آہستہ آواز سے کہہ دی، بعد میں نماز کے دوران امام کو یاد آیا اور اس نے سجدہ سہو کر لیا،اب اس کی اور مقتدیوں کی نماز درست ہو گئی یا نہیں؟
براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ نماز میں تکبیرِ تحریمہ کہنا فرض ہے، جبکہ اس کے علاوہ باقی تمام تکبیرات سنت ہیں، البتہ با جماعت نماز میں امام کے لیے یہ مسنون ہے کہ تکبیرِ تحریمہ اور دیگر تکبیرات اتنی آواز سے کہے کہ مقتدی سن سکیں، تکبیرات کو غیر معمولی حد تک آہستہ کہنا سنت کے موافق نہیں، اس لیے امام کو چاہیے کہ ضرورت کے مطابق درمیانی آواز اختیار کرے۔
اگر امام نے بھولے سے اتنی آہستہ تکبیر کہی کہ آواز مقتدیوں تک نہ پہنچ سکی اور انہوں نے امام کی حرکات دیکھ کر اقتدا کر لی تو نماز درست ہوجائے گی اور اس میں سجدۂ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں تکبیر تحریمہ آہستہ کہنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہیں تھا، لیکن امام کے سجدہ سہو کرنے کی وجہ سے نماز میں کوئی فرق نہیں آیا، نماز ادا ہو گئی ۔
*الدرالمختار:(476/1،ط: دارالفكر)*
(وتكبير الركوع و) كذا (الرفع منه) بحيث يستوي قائما (والتسبيح فيه ثلاثا) وإلصاق كعبيه (وأخذ ركبتيه بيديه) في الركوع (وتفريج أصابعه) للرجل، ولا يندب التفريج إلا هنا، لا الضم إلا في السجود (وتكبير السجود و) كذا نفس (الرفع منه) بحيث يستوي جالسا (و) كذا (تكبيره، والتسبيح فيه ثلاثا، ووضع يديه وركبتيه) في السجود.
*وأيضاً:(442/1،ط: دارالفكر)*
(من فرائضها) التي لا تصح بدونها (التحريمة) قائما (وهي شرط) في غير جنازة على القادر به يفتى.
*حاشية الطحطاوي:(256/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف وقالوا: الإساءة أدون من الكراهة در أي التحريمية وفي السيد عن النهر عن الكشف الكبير حكم السنة أنه يندب إلى تحصيلها ويلام على تركها مع لحوق إثم يسير.
*الشامية:(599/1،ط: دارالفكر)*
(قوله فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. اهـ. والله أعلم.