مرد کے لیے پاؤں کے تلووں پر مہندی لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
1922
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

مرد کے لیے پاؤں کے تلووں پر مہندی لگانے کا حکم

مرد کے لیے پاؤں کے تلوؤں پہ بطورِ علاج مہندی لگانے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرد کے لیے پاؤں کے تلووں پر بطورِ علاج مہندی لگانے میں کوئی حرج نہیں، تاہم عام حالات میں مردوں کے لیے عورتوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے پیروں پر مہندی لگانا مکروہ ہے۔

حوالہ جات

*مرقاة المفاتيح:(7/ 2828،ط: دار الفكر)*
وأما خضب اليدين والرجلين، فيستحب في حق النساء ويحرم في حق الرجال إلا للتداوي.

*الشامية:(6/ 422،ط:دارالفكر)*
(قوله ‌خضاب ‌شعره ‌ولحيته) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1922کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --