روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے میں بالوں پر کلر لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
1982
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے میں بالوں پر کلر لگانے کا حکم

کیا روزہ میں بالوں پر کلر کرنا جائز ہے؟ اور کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ روزہ صرف اس صورت میں فاسد ہوتا ہے کہ جب کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچ جائے، یا جماع کیا جائے، اس لیے بالوں پر کلر لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، البتہ خالص کالا خضاب لگانا جائز نہیں، سوائے حالت جہاد میں مجاہدین کے یا ایسے جوان کے جس کے بال بیماری یا کسی اور وجہ سے وقت سے پہلے سفید ہوگئے ہوں تو ان کے لیے کالا خضاب لگانے کی گنجائش ہے، بہتر یہی ہے کہ سیاہ کے بجائے کسی اور رنگ کا خضاب لگایا جائےـ

حوالہ جات

*الشامية: (147،ط:دارالفكر)*
(وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جومع) أو توارث الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا (أو أكل أو شرب غذاء) بكسر الغين والذال المعجمتين والمد ما يتغذى به (أو دواء) ما يتداوى به، ‌والضابط ‌وصول ‌ما ‌فيه ‌صلاح ‌بدنه ‌لجوفه ‌ومنه ريق حبيبه فيكفر لوجود معنى صلاح البدن فيه.

*الهندية:(5/ 359،ط:دارالفکر)*
وأما ‌الخضاب ‌بالسواد ‌فمن ‌فعل ‌ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة وروي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه قال كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها كذا في الذخيرة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1982کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --