کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اس نے اپنا گھر کرائے پہ دے دیا اور اپنے والدہ کے گھر کے قریب ایک کرائے کے گھر میں منتقل ہو گئی اب اس اپنے ذاتی گھر سے جو کرایہ آتا ہے وہ یہاں کرائے کے گھر میں دے دیتی ہے ،ان کے مطابق ان کے پاس کوئی سونا چاندی وغیرہ بھی اتنے مقدار میں نہیں ہے جس سے زکوۃ واجب ہو۔
پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں ان کو زکوۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں ؟
پوچھی گئی صورت میں اگراس بیوہ عورت نصاب کے بقدر رقم کی مالک ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز نہیں،لیکن اگر وہ نصاب کے بقدر رقم کی مالک نہ ہوتو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔
الهندية: (1/ 179، ط: دارالفكر)
ولو فضل من النصابين أقل من أربعة مثاقيل، وأقل من أربعين درهما فإنه تضم إحدى الزيادتين إلى الأخرى حتى يتم أربعين درهما أو أربعة مثاقيل ذهبا كذا في المضمرات. ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا .
بدائع الصنائع : (2/ 21، ط: دارالكتب العلمية )
ألا ترى أنه لو كان بالتقويم بأحدهما يتم النصاب وبالآخر لا فإنه يقوم بما يتم به النصاب نظرا للفقراء واحتياطا.