بڑھئی کے لیے لکڑی کا صلیب بنا کر بیچنا

فتوی نمبر :
2065
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

بڑھئی کے لیے لکڑی کا صلیب بنا کر بیچنا

میں مسلمان بڑھئی ہوں کیا میں کسی عیسائی کو لکڑی کا صلیب بنا کر فروخت کرسکتا ہوں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں تجارت کو حلال اور پاکیزہ اصولوں کے تحت رکھا گیا ہے، ایسی چیزوں کی خرید و فروخت جو بذاتِ خود گناہ، شرک یا معصیت کا ذریعہ ہوں، شریعت میں ناجائز اور حرام ہے، چنانچہ وہ اشیاء جن کی کافر لوگ عبادت کرتے ہیں، جیسے صلیب، بت یا دیگر مذہبی شعائرِ کفر، ان کا بنانا، بیچنا جائز نہیں، کیونکہ ایسی تجارت میں گناہ اور باطل عقائد کے فروغ میں تعاون پایا جاتا ہے، جبکہ قرآنِ کریم میں گناہ اور زیادتی پر تعاون سے منع فرمایا گیا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں لکڑی سے صلیب بناکر بیچنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(سورۃ المائدہ: 2:4)*
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ.

*تفسير الطبري :(52/8،ط:دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان)*
قال أبو جعفر رحمه الله: يعنى جل ثناؤه بقوله: ﴿وتعاونوا على البر والتقوى﴾: وليعن بعضكم بعضا أيها المؤمنون على البر، وهو العمل بما أمر الله بالعمل به، والتقوى هو اتقاء ما أمر الله باتقائه واجتنابه من معاصيه.
وقوله: ﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾ يعنى: ولا يعن بعضكم بعضا على الإثم. يعني: على ترك ما أمركم الله بفعله ﴿والعدوان﴾، يقول: ولا على أن تتجاوزوا ما حد الله لكم في دينكم، وفرض لكم في أنفسكم وفي غيركم.

*تفسير ابن كثير :(10/3ط:دار الكتب العلمية)*
وقوله تعالى: ﴿وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾ يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير (٣): الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله لكم في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
19
فتوی نمبر 2065کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --