مفتی صاحب! رجب کی ستائیسویں شب کے بارے میں بتائیے۔
رجب کی ۲۷ تاریخ کو شب معراج منائی جاتی ہے ۔ دن کوروزہ اور رات کو قیام کیا جاتا ہے ۔ محافل نعت اور مختلف دینی مجالس منعقد کی جاتی ہیں اورمساجد میں چراغاں وغیرہ کیا جاتاہے اوراِن تمام اُمور کو اِس بنیاد پر سرانجام دیا جاتا ہے کہ ستائیس رجب کی رات جناب رسول اللہ ﷺ کو سفرِ معراج کروایا گیا۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ شبِ معراج کی کسی قسم کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے: جناب رسول اللہ ﷺ کا’’ سفرِمعراج اور اسراء‘‘ بالکل برحق ہے ، اس کے انکار کی قطعاً گنجائش نہیں اور معراج کی رات آپ ﷺ کو آسمانوں پر بُلاکر بہت بڑا شرف بخشا گیا ، لیکن امت کے لیے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ شبِ قدر اور شبِ معراج ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات افضل ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی اکرم ﷺ کے حق میں’’ لیلة المعراج‘‘ افضل ہے اور امت کے حق میں’’ لیلة القدر‘‘ ، اس لیے کہ اِس رات میں جن انعامات سے نبی اکرم ﷺ کو مختص کیا گیا ،وہ ان (انعامات ) سے کہیں بڑھ کرہیں، جو (انعامات آپ ﷺ کو) شبِ قدر میں نصیب ہوئے،اور امت کو جو حصہ (انعامات)شبِ قدر میں نصیب ہوا ،وہ اس سے کامل ہے جو(امت کو شبِ معراج میں ) حاصل ہوا ، اگرچہ امتیوں کے لیے شبِ معراج میں بھی بہت بڑا اعزاز ہے؛ لیکن اصل فضل اور شرف اُس ہستی کے لیے ہے جِس کو معراج کروائی گئی،ﷺ(مجموع الفتاوى،ج:٢٦،ص:٢٨٦،ط:مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف) شبِ معراج کی تعیین میں اختلاف ہے: آپ ﷺ کو سفرِ معراج کب کروایا گیا؟ اِس بارے میں تاریخ،مہینے؛بلکہ سال میں بھی بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، اس بارے میں (یعنی جِس سال میں معراج کروائی گئی ) عموماً دس اقوال ملتے ہیں اور اِن اقوال میں سے سب سے زیادہ مشہور قول جس کو ترجیح دی گئی ہے وہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔( فتح البارى لابن الحجر العسقلانى،ج:٧،ص:٢٠٣،ط: دار المعرفة) اسی طرح مہینے کی تعیین میں بھی اختلاف ہے کہ واقعہِ معراج کس مہینے میں پیش آیا، ربیع الاول ، ربیع الاخر، رجب، رمضان یا شوال ، یہ پانچ اقوال ملتے ہیں ۔( شرح الزرقاني على المواهب اللدنية،ج:٢،ص: ٧٠،ط: دارالكتب العلمية) اسی طرح شبِ معراج کس تاریخ اور کس رات میں ہوئی؟ اس میں بھی اختلاف ہے۔( ہادی عالم از سید فضل الرحمن،ج:١،ص:٣١٨ط: زوار اکیڈمی.) جب شب معراج کےسال ، مہینے اور دن میں اختلاف ہے تو اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے؟ *سوال یہ ہوتا ہے کہ تعیین شبِ معراج میں اتنا اختلاف کیوں ؟* معراج کے قصے کی تفصیل تقریباً ینتالیس صحابہ کرام سے منقول ہے(قصص القرآن از مولانا حفیظ الرحمن سیوہاروی،ج:٤،ص:٥٢١،ط: دارالاشاعت)، لیکن جس رات میں یہ واقعہ پیش آیا، اس رات کی حتمی تاریخ کسی نے بھی نقل نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شب میں خرافات و بدعات کی بھر مار کا شدید خطرہ تھا، حضور ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سدّ ِباب کی غرض سے اس کو مبہم رکھنا ہی ضروری سمجھا“ (سات مسائل از مفتی رشید احمد لدھیانوی،ص: ١٤، ط: دارالافتاء و الارشاد کراچی) حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ شبِ معراج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”ستائیس رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ شب ِ معراج ہے ، اور اس شب کو بھی اسی طرح گذارنا چاہیے، جس طرح شب قدر گذاری جاتی ہے اور جو فضیلت شبِ قدر کی ہے ، کم وبیش شب معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے؛ بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ ”شبِ معراج کی فضیلت شبِ قدر سے بھی زیادہ ہے“ اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کر دئیے کہ اس رات میں اتنی رکعات پڑھی جائیں اور ہر رکعت میں فلاں فلاں سورتیں پڑھی جائیں ، خدا جانے کیا کیا تفصیلات اس نماز کے بارے میں مشہور ہو گئیں ، خوب سمجھ لیجئے:یہ سب بے اصل باتیں ہیں ،شریعت میں ان کی کوئی اصل اور کوئی بنیاد نہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ستائیس رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتاکہ یہ وہی رات ہے، جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے ؛ کیونکہ اس باب میں مختلف روایتیں ہیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتاکہ کون سی رات صحیح معنوں میں معراج کی رات تھی، جس میں آنحضرت ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے اس سے آپ خوداندازہ کر لیں کہ اگر شب معراج بھی شبِ قدر کی طرح کوئی مخصوص عبادت کی رات ہوتی،اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے جس طرح شبِ قدر کے بارے میں ہیں، تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا؛لیکن چونکہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ستائیس رجب کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ ﷺ ستائیس رجب کو ہی معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے ، جس میں یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیااور جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ مقام ِ قرب عطا فرمایا اور اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا، اور امت کے لیے نمازوں کا تحفہ بھیجا، تو بے شک وہی ایک رات بڑی فضیلت والی تھی ، کسی مسلمان کو اس کی فضیلت میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ فضیلت ہر سال آنے والی ستائیس رجب کی شب کو حاصل نہیں ۔ پھردوسری بات یہ ہے کہ (بعض روایات کے مطابق)یہ واقعہ معراج سن ۵، نبوی میں پیش آیا ، یعنی حضور ﷺ کے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شبِ معراج پیش آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ۱۸،سال تک آپ ﷺ نے شبِ معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا حکم دیاہو ، یااس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شبِ قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے، نہ تو آپﷺ کا ایسا کو ئی ارشاد ثابت ہے ،اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے ، نہ خود آپ ﷺ جاگے اور نہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔ پھر سرکارِ دو عالم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد تقریباً سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینا میں موجود رہے ، اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ثابت نہیں ہے، جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷،رجب کو خاص اہتمام کر کے منایا ہو، لہٰذا جو چیز حضورِ اکرم ﷺ نے نہیں کی اور جو چیز آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نہیں کی ، اس کودین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قراردینا، یا اس کے ساتھ سنت جیسامعاملہ کرنا بدعت ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں (العیاذ باللہ)حضور ﷺ سے زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اس کو کروں گا تو اس کے برابر کوئی احمق نہیں“حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین رحہم اللہ تعالیٰ اور تبع تابعین رحہم اللہ تعالیٰ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے ، دین کو خوب سمجھنے والے ، اور دین پر مکمل طور پر عمل کرنے والے تھے ، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھنے والا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گذار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا؛ لہٰذا اس رات میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے ، یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے دیں وہ بہتر ہی بہتر ہے؛لہٰذا آج کی رات بھی جاگ لیں، لیکن اس رات میں اور دوسری راتوں میں کوئی فرق اور نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔“ (اصلاحی خطبات :ج:۱،ص:۴۸-۵۲،میمن اسلامک پبلشرز) خلاصہ کلام ماہ رجب کی محض اتنی ہی فضیلت ثابت ہے کہ یہ ایک حرمت والا مہینہ ہے اس لئے اس کے احترام کا تقاضا ہے کہ اس میں خصوصی طور پر گنا ہوں سے بچنے اور عبادات بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے، اور اس ماہ مبارک میں بدعات و خرافات سے بچائے اور اس حرمت و عظمت والے مہینے کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔