مفتی صاحب !
شب برات کے روزے رکھنا اور رات جاگنا کیسا ہے ؟
۱) شبِ برأت ایک بابرکت اور عظمت والی رات ہے۔ اگرچہ ذخیرۂ احادیث میں اس رات کی فضیلت کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں، وہ انفرادی طور پر ضعف سے خالی نہیں، تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ روایات متعدد ہیں اور کم از کم دس صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مختلف سندوں کے ساتھ مروی ہیں، جن کے اسمائے مبارکہ سابقہ سطور میں گزر چکے ہیں۔ اس بنا پر یہ روایات کثرتِ طرق کی وجہ سے حسن لغیرہ (قابلِ قبول) کے درجے میں داخل ہو جاتی ہیں۔
مزید یہ کہ امتِ مسلمہ کا آغاز ہی سے شبِ براءت کی فضیلت پر عمل چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ مشہور غیر مقلد عالم علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے سنن ترمذی کی شرح میں پندرہویں شعبان سے متعلق روایات ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:پندرہویں شعبان کی فضیلت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان روایات کی ایک اصل موجود ہے اور یہ تمام احادیث مجموعی اعتبار سے اس شخص کے خلاف حجت ہیں، جو یہ گمان کرتا ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں۔‘‘
علامہ ابن الحاج مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’اس رات کے بڑے فضائل ہیں اور بڑی خیر والی رات ہے اورہمارے اسلاف اس کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور اس رات کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرتے تھے۔‘‘
علامہ علاؤالدین الحصکفی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ شعبان کی پندرہویں شب میں رات کو جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے۔‘‘
علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’شعبان کی پندرہویں رات کو بیداررہنا مستحب ہے‘‘
۲)واضح رہے کہ پورے ذخیرۂ احادیث میں پندرہ شعبان کے روزے کے بارے میں صراحت کے ساتھ صرف ایک ہی روایت منقول ہے، جس میں شبِ براءت کے بعد والے دن روزہ رکھنے کا ذکر آیا ہے،اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم یہ اصول مسلم ہے کہ فضائلِ اعمال کے باب میں ضعیف روایت سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ پندرہ شعبان کا دن ایامِ بیض میں سے ہے۔ ایامِ بیض سے مراد ہر قمری مہینے کی ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخیں ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ ان تین دنوں میں روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس بنا پر پندرہ شعبان کے دن نفل روزے کی نیت سے روزہ رکھنا مستحب ہے۔
البتہ اس بات کا خاص طور پر لحاظ رکھنا چاہیے کہ اس دن کے روزے کو باقاعدہ سنتِ مؤکدہ یا لازم عبادت قرار نہ دیا جائے، بلکہ اسے عمومی نفلی روزوں کے دائرے میں ہی رکھا جائے۔
*سنن ابن ماجه: (2/ 399 ،ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن أبي سبرة، عن إبراهيم بن محمد، عن معاوية بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها، وصوموا نهارها ، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلى فأعافيه، ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر"
*تحفة الأحوذي: ( 365/3، ط: دار الکتب العلمیة(*
” اعلم أنه قد ورد في فضيلة ليلة النصف من شعبان عدة أحاديث مجموعها يدل على أن لها أصلا۔۔۔۔ فهذه الأحاديث بمجموعها حجة على من زعم أنه لم يثبت في فضيلة ليلة النصف من شعبان شيء والله تعالى أعلم.
*المدخل لابن الحاج: (299/1، ط: دار التراث(*
ولا شك أنها ليلة مباركة عظيمة القدر عند الله تعالى ۔۔۔۔۔ وكان السلف - رضي الله عنهم - يعظمونها ويشمرون لها قبل إتيانها فما تأتيهم إلا وهم متأهبون للقائها، والقيام بحرمتها على ما قد علم من احترامهم للشعائر على ما تقدم ذكره هذا هو التعظيم الشرعي لهذه الليلة.
*الدر المختار: (25/2، ط: دار الفکر*(
وإحياء ليلة العيدين، والنصف من شعبان، والعشر الأخير من رمضان، والأول من ذي الحجة، ويكون بكل عبادة تعم الليل أو أكثره.
*البحر الرائق: (56/2، ط: دار الکتاب الاسلامي*(
ومن المندوبات إحياء ليالي العشر من رمضان وليلتي العيدين وليالي عشر ذي الحجة وليلة النصف من شعبان كما وردت به الأحاديث وذكرها في الترغيب والترهيب مفصلة والمراد بإحياء الليل قيامه وظاهره الاستيعاب ويجوز أن يراد غالبه.
*اصلاحی خطبات از مفتی تقی عثمانی:( 4/259،ط:میمن اسلامک پبلشرز)*