مفتی صاحب!
کیا شب برات کا کوئی خاص عمل حدیث سے ثابت ہے؟
واضح رہے کہ شبِ براءت بلاشبہ ایک نہایت فضیلت والی رات ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس رات میں بیدار رہ کر عبادت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاہم اس رات کے لیے شریعت میں کسی مخصوص عبادت یا خاص طریقۂ عبادت کا تعین نہیں کیا گیا۔
اس رات میں بیدار رہنا اور عبادت میں مشغول ہونا باعثِ اجر و ثواب اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ بات درست ہے کہ عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں ہی انداز سے عبادت کی جائے۔ بلکہ اس رات میں عام نفلی عبادات جس قدر میسر ہوں، ادا کی جا سکتی ہیں؛ مثلاً نفلی نماز، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و تسبیح، درود شریف اور دعا وغیرہ۔ یہ تمام عبادات اس مبارک رات میں کی جا سکتی ہیں، مگر کسی مخصوص ہیئت یا طریقے کا ثبوت شریعت سے نہیں ملتا۔
*اصلاحی خطبات از مفتی تقی عثمانی:( 4/259،ط:میمن اسلامک پبلشرز)*