مفتی صاحب !
جنت میں یہی دنیا کی بیوی نکاح میں ہوگی اگرچہ طلاق دیا ہو،یا اگرچہ شوہر نےقتل کردیا ہو،اگر چہ ایک بیوی سے زیادہ ہو وہ بھی نکاح میں ہوگی؟
جو عورتیں دنیا میں شادی شدہ ہوں گی، وہ آخرت میں بھی اپنے انہی شوہروں کے ساتھ ہوں گی، بشرطیکہ شوہر بھی جنت کے مستحق ہوں، غیر شادی شدہ عورتیں، یا جن عورتوں کا شوہر جنت میں نہ جا سکا ہو، انہیں اختیار دیا جائے گا کہ وہ جنت کے جس مرد کو پسند کریں، اس سے ان کی شادی کر دی جائے گی،اور اگر کوئی عورت کسی انسان کے ساتھ نکاح پر آمادہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے اس کے لیے خصوصی زوج پیدا فرمائیں گے اور اس کے ساتھ ان کی شادی فرما دی جائے گی۔
اگر شوہر بیوی کا قاتل ہو تو اس کے متعلق روایات میں کوئی صراحت نہیں کہ یہ بیوی اس کے ساتھ ہوگی یانہیں،اس لیے مناسب یہی ہے کہ اس میں توقف کیا جائے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہی چھوڑ دیا جائے ۔
اگر کسی شخص کی وفات کے بعد اس کی بیواؤں میں سے کسی نے دوسری جگہ نکاح نہ کیا ہو، یا وہ بیویاں جن کا انتقال شوہر کی زندگی ہی میں ہو گیا ہو، تو جنت میں وہ سب اپنے اسی شوہر کے ساتھ ہوں گی، بشرطیکہ سب جنت کے مستحق ہوں۔
*تفسير ابن كثير:(292/8،ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)*
وقوله تعالى: (ويطوف عليهم ولدان مخلدون إذا رأيتهم حسبتهم لؤلؤا منثورا) أي: يطوف على أهل الجنة للخدمة ولدان من ولدان الجنة (مخلدون) أي: على حالة واحدة مخلدون عليها، لا يتغيرون عنها.
*سنن الترمذي:(299/4،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا سفيان بن وكيع، قال: حدثنا أبي ، عن فضيل بن مرزوق ، عن عطية ، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال: «إن أول زمرة يدخلون الجنة يوم القيامة ضوء وجوههم على مثل ضوء القمر» ليلة البدر، والزمرة الثانية على مثل أحسن كوكب دري في السماء، لكل رجل منهم زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة يرى مخ ساقها من ورائها.
*مرقاة المفاتيح:(3589/9،ط:دار الفكر)*
وهذا لا ينافي أن يحصل لكل منهم كثير من الحور العين الغير البالغة إلى هذه الغاية، كذا قيل، والأظهر أن لكل زوجتان من نساء الدنيا، وإن أدنى أهل الجنة من له اثنتان وسبعون زوجة في الجملة، يعني: اثنتين من نساء الدنيا وسبعين من الحور العين، والله سبحانه وتعالى أعلم. (رواه الترمذي) . وكذا أحمد في مسنده.
*فتاویٰ محمودیہ:687/1،ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی*
'عورتوں کوان کے خاوندملیں گے،جوان کے لیے انتہائی راحت کاذریعہ ہوں گے،کسی اورطرف ان کی نظرنہیں جائے گی بلکہ خیال بھی نہیں آئے گا۔