نقد پر بیچی ہوئی گاڑی کو واپس قسطوں پر خریدنےکا حکم

فتوی نمبر :
2270
معاملات / مالی معاوضات /

نقد پر بیچی ہوئی گاڑی کو واپس قسطوں پر خریدنےکا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے خالد سے ایک گاڑی نقد رقم پر خریدی اور قیمت بھی ادا کر دی اس کے بعد زید وہی گاڑی خالد سے دوبارہ قسطوں پر خریدتا ہے
پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح نقد رقم پر بیچے ہوئے گاڑی کو قسطوں پر واپس خریدنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بھی چیز کو خریدنے کے بعد جب اس کی قیمت ادا کر دی جائے تو یہ عقد تام ہو جاتا ہے اس کے بعد اسے قسطوں پر فروخت کرنا یا بیچے ہوئے کو قسطوں پر خریدنا دونوں جائز ہے۔
پوچھی گئی صورت میں جب زید نے خالد کو گاڑی بھیجی اور پیسے وصول کر لیے ہیں تو وہ عقد تام ہو چکا ہے لہذا اب اگر زید اسے نئے سرے سے قسطوں پر خریدتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (5/ 73، ط: دارالفكر)
(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول.

فتح القدير للكمال بن الهمام : (6/ 432، ط: دارالفكر)
قال (ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع الثاني)... ‌وقيد بقوله: نقد الثمن؛ لأن ما بعده يجوز بالإجماع بأقل من الثمن.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2270کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --