مصارف زکوۃ و صدقات

مقروض کاروباری کا زکوٰۃ لینا

فتوی نمبر :
2290
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مقروض کاروباری کا زکوٰۃ لینا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص ہے جس کا پہلے کافی عرصے سے کام نہیں تھا تو اس کے گھر کے حالات بہت خراب تھے، لوگ اسے راشن اور پیسے دیتے تھے اور وہ قرضدار بھی بہت ہوگیا اور ابھی اس کا کام لگ گیا کمائی شروع ہو گئی، لیکن ابھی بھی وہ قرضدار ہے تو اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی یہ پیسے لے سکتا ہے یا نہیں اور اگر وہ نہیں لے سکتا تو وہ اپنے نام پہ لے کہ کسی اور ضرورت مند کو دے سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوٰۃ اسی شخص کو دی جاسکتی ہے جس کے پاس اپنی ضروریاتِ زندگی کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال یا سامان موجود نہ ہو، اگر کسی کے پاس ضرورت سے زائد مکان، پلاٹ یا اتنی مالیت کی رقم ہو تو وہ شرعاً زکوٰۃ کا مستحق نہیں رہتا،
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر شخص مذکور کے پاس نصاب سے کم مال ہو تو زکوۃ لینا جائز ہے، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

*الشامية:(340/2،ط: دارالفكر)*
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا إلا إلى طالب العلم والغازي ومنقطع الحج.

*الهندية:(189/1،ط:دارالفكر )*
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من:النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية.

*البحر الرائق:(260/2،ط:دارالكتاب الإسلامي)*
لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا إلا إلى طالب العلم والغازي والمنقطع لقوله عليه السلام ويجوز دفع الزكاة لطالب العلم، وإن كان له نفقة أربعين سنة اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2290کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --