نام رکھنے کا حکم

بچی کا ملائکہ کا نام رکھنا

فتوی نمبر :
2382
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچی کا ملائکہ کا نام رکھنا

السلام علیکم!
میرا نام ملائکہ ہے، میں نے کسی سے سنا ہے کہ ملائکہ نام نہیں رکھنا چاہیے۔ کیا یہ نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر درست نہیں تو مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ملائکہ فرشتوں کو کہا جاتا ہے، اس لیے یہ نام بچیوں کے لیے مناسب نہیں، بہتر یہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کے نام صحابہ اور ازواجِ مطہرات و صحابیات کے بابرکت ناموں میں سے کسی نام پر رکھے جائیں۔
مناسب یہ ہے کہ آپ اپنا نام تبدیل کر کے صحابیات کے ناموں پر کوئی نام رکھیں ۔

حوالہ جات

*سنن أبي داود:(7/ 303 ،رقم الحديث:4948،ط:دارالرسالة العالمية)*
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم ‌تدعون ‌يوم ‌القيامة ‌باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم".

*مسند البزار:(15/ ،ط: مكتبة العلوم والحكم)*
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن من حق الولد على الوالد ‌أن ‌يحسن ‌اسمه ويحسن أدبه.

*مرقاة المفاتيح:(3010/7،ط:دار الفكر)*
وعن أبي وهب الجشمي): بضم جيم وفتح شين معجمة قال المؤلف: اسمه كنيته وله صحبة (قال: قال رسول الله ﷺ:»«تسموا بأسماء الأنبياء») أي: دون الملائكة لما سبق، ولا بأسماء الجاهلية من كلب وحمار وعبد شمس ونحوها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2382کی تصدیق کریں