مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی حصے میں قربانی اور عقیقہ دونوں کی نیت کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ چھوٹے جانور میں یا بڑے جانور کے ایک حصے میں صرف ایک ہی نیت کی جاسکتی ہے ،لہذا بڑے جانور کے ایک حصے میں قربانی و عقیقہ دونوں کی مشترکہ نیت کرنا درست نہیں ہے ، البتہ بڑے جانور(اونٹ، گائے، بھینس وغیرہ) میں قربانی کے حصوں کے علاوہ الگ حصے میں عقیقہ کی نیت کرنا درست ہےـ
*بدائع الصنائع: ( 5/ 70،ط:دار الكتب العلمية)* فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس. *الشامية: (6/ 326،ط:دارالفكر)* وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد.