عذر کی بنا پر عصر کی نماز مثل اول کے بعد پڑھنا

فتوی نمبر :
2466
عبادات / نماز /

عذر کی بنا پر عصر کی نماز مثل اول کے بعد پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
ہم تبلیغ میں ہوتے ہیں، بعض دفعہ اہل حدیث کی مسجد میں تشکیل ہو جاتی ہے، وہ لوگ عصر کی نماز مثل اول کے بعد پڑھتے ہیں تو کیا ہماری نماز ان کے ساتھ صحیح ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عصر کے ابتدائی وقت کے بارے میں مفتیٰ بہ قول یہ کہ جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ دو مثل (دوگنا) ہو جائے، اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے، لہٰذا اس سے پہلے عصر کی نماز ادا کرنا درست نہیں، البتہ اگر کوئی شرعی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں صاحبین کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، یعنی ایک مثل سایہ ہونے پر عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن بلا عذر اس پر مستقل عمل کرنا مناسب نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ اہل حدیث کی مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں اگر آپ ان کے ساتھ مثل اول پر نماز ادا نہیں کریں گے تو انتشار کا اندیشہ ہے، اس لیے گنجائش ہے کہ ان کے ساتھ مثل اول پر نماز ادا کر لیں ۔

حوالہ جات

*الشامية:(359/1،ط: دارالفكر)*
هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل. ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلا عن بعض الفتاوى أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض.

*البحر الرائق:(257/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
والثانية رواية الحسن إذا صار ظل كل شيء مثله سوى الفيء وهو قولهما.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2466کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --