مسائل قربانی

تصویر کشی کرنے والے کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2486
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

تصویر کشی کرنے والے کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم

مفتی صاحب !
تصویر کشی کرنے والے یعنی جس کا یہ کاروبار ہو اس کے ساتھ قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ وہ تصاویر جو پرنٹ کر کے بنائی جاتی ہیں، صرف ضرورت کے تحت (جیسے شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ) جائز ہیں، جبکہ بلا ضرورتِ شدیدہ ان کا بنانا ناجائز و حرام ہے، البتہ ڈیجیٹل تصاویر کے جواز و عدمِ جواز کے بارے میں علماء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم اکثر علماء کے نزدیک جب تک ڈیجیٹل تصاویر کو پرنٹ کر کے نکالا نہ جائے تو جائز ہیں۔
لہٰذا جن تصاویر کا بنانا ناجائز و حرام ہے، ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز و حرام ہوگی اور اگر کسی شخص نے اسی حرام آمدنی کو قربانی میں شامل کیا ہو تو اس کے ساتھ قربانی کرنا جائز نہیں،البتہ جن تصاویر کا بنانا جائز ہے، ان کی آمدنی بھی جائز ہوگی اور ایسے شخص کے ساتھ قربانی کرنا بھی درست ہے۔

حوالہ جات

*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5950،ط:دار طوق النجاۃ)*
عن مسلم قال: «كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن ‌أشد ‌الناس ‌عذابا عند الله يوم القيامة المصورون.»

*الشامیة: (6/ 370،ط:دارالفكر)*
الضرورات ‌تتقدر بقدرها.

*أيضا :(1/ 647):*
الإجماع على ‌تحريم ‌تصوير ‌الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى.

*أيضا:(6/ 326)*
(وإن) (كان شريك الستة نصرانيا أو ‌مريدا ‌اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ هداية لما مر.

*الهندية: (4/ 450،ط:دارالفكر)*
رجل ‌استأجر ‌رجلا ‌ليصور ‌له صورا أو تماثيل الرجال في بيت أو فسطاط فإني أكره ذلك وأجعل له الأجرة قال هشام: تأويله إذا كان الإصباغ من قبل الأجير. كذا في الذخيرة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2486کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --