مفتی صاحب !
جو آدمی گانے گاتا ہو کیا اس کے ساتھ قربانی میں شرکت کرنا جائز ہے؟
واضح رہے کہ میوزک کے ساتھ یا بغیر میوزک کے ایسے گانے گانا جو بیہودگی اور بے حیائی پر مشتمل ہوں، شرعاً ناجائز اور حرام ہیں، جب اس طرح کے گانے گانا حرام ہیں تو اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوگی، جس شخص کی آمدنی حرام ہو، اس کے ساتھ قربانی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔
لہٰذا اگر کسی شخص کے دیے گئے پیسوں کے بارے میں یقین ہو کہ وہ حرام کمائی سے ہیں تو اس کے ساتھ قربانی کرنا جائز نہیں، البتہ اگر ان پیسوں کے حرام ہونے کا یقینی علم نہ ہو،بلکہ صرف شک ہو، یا یہ معلوم ہو کہ اس نے قربانی میں جو رقم شامل کی ہے،وہ حلال کمائی سے ہے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ قربانی کرنا جائز ہوگا۔
*الشامية: (6/ 326،ط:دارالفكر)*
(وإن) (كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ هداية لما مر.
*الهندية: (5/ 343،ط:دارالفكر)*
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.