مفتی صاحب ! ہم سرکاری ملازم ہیں اور ہماری تنخواہ نیشنل بینک میں آتی ہے، بینک کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو یہ سہولت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیس (20) تنخواہوں کی رقم بطور ایڈوانس حاصل کرسکتے ہیں اور بینک اس رقم پر 11 فیصد اضافی رقم (مارک اَپ) وصول کرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ایڈوانس سیلری لینا اور اس پر 11 فیصد اضافی رقم دینا شرعاً جائز ہے؟ یا یہ سود کے حکم میں داخل ہے؟
واضح رہے کہ بینک سے سود پر قرض لینا جائز نہیں ہے، پوچھی گئی صورت میں بینک کی طرف سے دی جانے والی رقم حقیقت میں قرض ہے، جس پر گیارہ فیصد اضافی رقم وصول کرنا شرعاً سود ہے، جو کہ حرام ہے، لہذا اس طرح ایڈوانس سیلری لینا جائز نہیں۔
*القرأن الكريم :[البقرة: 278]* أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. *صحيح مسلم: (رقم الحديث :106-(1598،ط:دار الطباعة العامرة )* عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء . *تكملة فتح الملهم:1/619، ط:دارالعلوم كراتشي* قوله ( وموكله ) يعني الذي يودي الربا الي غيره فاثم عقد الربا والتعامل به سواء في كل من الأخذ والمعطي .... ولهذا جاز اعطاءه عندالضرورة الشديدة .