السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! تیمم کرنا کن صورتوں میں جائز ہے؟
تیمم کے شرعی اعذار یہ ہیں: (1) پانی تک پہنچنے کے لیے ایک میل یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو اور نماز کا وقت نکلنے کا خطرہ ہو۔ (2) بیمار آدمی کے لیے پانی کے استعمال سے مرض بڑھنے یا دیر سے شفایاب ہونے کا خطرہ ہو۔ (3) سخت سردی ہو اور جنبی کے لیے گرم پانی دستیاب نہ ہو اور ٹھنڈے پانی سے جان یا اعضاء کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ (4) پانی ایسی خطرناک جگہ پر ہو جہاں سانپ، دشمن یا آگ وغیرہ کا خطرہ ہو، یا وہاں جانے سے مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ (5) پانی اتنا کم ہو جو محض پینے کی ضرورت کے لیے ہو، وضو یا غسل کرنے سے قافلے والوں یا جانوروں کے پیاسے مرنے کا اندیشہ ہو۔ (6) پانی حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، نہ ہی کنویں میں اترنے کی طاقت ہو۔ (7) وضو یا غسل کرنے کی صورت میں عید کی نماز رہ جانے کا خدشہ ہو۔ (8) غیر ولی کو یہ خوف ہو کہ اگر وضو کرے گا تو نمازِ جنازہ رہ جائے گی یعنی چاروں تکبیریں جاتی رہیں گی۔ ان تمام اعذار کی بنا پر تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے۔
*الدرالمختار:(241/1،ط: دارالفكر)* (و) جاز (لخوف فوت صلاة جنازة) أي كل تكبيراتها ولو جنبا أو حائضا. *الشامية:(232/1،ط: دارالفكر)* (قوله من عجز) العجز على نوعين: عجز من حيث الصورة والمعنى، وعجز من حيث المعنى فقط، فأشار إلى الأول بقوله لبعده، وإلى الثاني بقوله أو لمرض، أفاده في البحر. وفيه عن المحيط المسافر يطأ جاريته وإن علم أنه لا يجد الماء؛ لأن التراب شرع طهورا حال عدم الماء؛ ولا تكره الجنابة حال وجوده فكذا حالة عدمه. اهـ (قوله مبتدأ) المبتدأ لفظ من فقط، لكن لما كان الصلة والموصول كالشيء الواحد تسمح في إطلاق المبتدإ عليهما ط (قوله المطلق) قيد به؛ لأن غيره كالعدم (قوله الكافي لطهارته) أي من الخبث والحدث الأصغر أو الأكبر.