ہمارا کام ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہے، ہم رئیل اسٹیٹ کے بلڈرز وغیرہ کو ویڈیوز بنا کر دیتے ہیں، ابھی ہم نے کام شروع کیا ہے اور ایک پروجیکٹ مکمل کرکے دیا ہے۔ جو ویڈیوز ہم بناتے ہیں وہ اے آئی ویڈیوز ہوتی ہیں، ان میں اے آئی سے بنی ہوئی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں اور پیچھے ساؤنڈ، میوزک یا بیٹس وغیرہ بھی چل رہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح اے آئی ماڈلز بھی ہوتی ہیں جو کچھ بول رہی ہوتی ہیں، یا سامنے نظر آ رہی ہوتی ہیں۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی ویڈیوز بنانا اور یہ کام کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ مجھے اس بارے میں شبہ ہو رہا ہے۔ ویڈیو بنا کر دے دی ہے، میرا دل اس معاملے میں مطمئن نہیں ہے۔
شریعت نے نگاہوں کی حفاظت اور ناجائز امور جیسے موسیقی، بدنظری، وغیرہ سے بچنے کا حکم دیا ہے، اس طرح کی ویڈیوز بنانا یا تصویریں بنانا جن میں نامحرم عورتیں ہوں (خواہ وہ عورتیں حقیقی ہوں یا اے آئی کی تخلیق کردہ) یا موسیقی ہو جائز نہیں۔ ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اپنی مصنوعات یا کاروبار کی تشہیر کے لیے ایسی تصاویر، ویڈیوز یا اشتہارات بنانا جن میں نامحرم عورتوں کی تصاویر یا ویڈیوز شامل ہوں، یا ایسے اشتہارات بنانا جن میں موسیقی کا استعمال ہو ناجائز ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔ اس کی متبادل صورت یہ ہے کہ اس پراڈکٹ کی تشہیر میں نامحرم عورتوں کی تصاویر، ویڈیوز اور موسیقی شامل نہ ہو، بلکہ جائز اور شرعی حدود کے مطابق اشتہار بنایا جائے، اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی، بشرطیکہ کاروبار اور اس کے دیگر معاملات بھی شریعت کے مطابق ہوں۔
*القرآن الکریم: (النور، الآیة: 30:24)* قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ. *ایضاً: (لقمان:6:31)* وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ. *تفسير ابن كثير:(12/3،ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)* وقوله: (وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل. *الشامية:(55/6،ط: دارالفكر)* (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل، وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح.